میں نے شدید غصہ کی حالت میں اپنی بیوی پر شرط لگائی کہ وہ اپنے بھائیوں سے ملنے گئی تو طلاق ہو جائیگی، میرا مقصد صرف ڈرانا تھا بہت مہربانی ہوگی۔ اللہ مجھے معاف کریں ظلم نہ ہوجائے ۔راہنمائی فرمائیں !
واضح ہوکہ دھمکی یاڈرانے کی غرض سے بھی اگر طلاق معلق کی تب بھی وہ تعلیق منعقد ہو جاتی ہے ، چنانچہ سائل نے اگر مذکورالفاظ کہ "جب اپنے بھائیوں سے ملنے گئی تو طلاق ہو جائیگی “ ایک دفعہ کہے ہوں تو اس سے ایک طلاق رجعی معلق ہو چکی ہے، لہذاسائل کی بیوی جب بھی اپنے بھائیوں سے ملنے جائے، تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی، اور سائل کو دوران عدت (تین ماہواریوں کے ختم ہونے تک) رجوع کاحق حاصل ہو گا، چنانچہ زبانی طور پر رجوع کے الفاظ مثلا ًمیں رجوع کرتا ہوں وغیرہ کہہ دینے یا عملاًمیاں بیوی والے تعلقات قائم کرنے یا شہوت کے ساتھ چھولینے سے رجوع درست ہو جائیگا، اور دونوں کا نکاح حسب سابق بر قرار رہے گا،آئندہ کیلئےشوہر کوفقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لیے آئندہ کیلئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے تاہم اگر شوہر نے یہ الفاظ تین دفعہ کہہ دئیے ہوں ،تو مکرر سوال کر کے حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔