میں اللہ کو حاضر وناظر جانتے ہوئے اپنے ہوش و حواس میں کہتا ہوں کہ آج سے خود کو تم پے حرام قرار دیتا ہوں , آج کے بعد کبھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا , نہ توکبھی مجھے ہاتھ لگانا , تو مجھ پے حرام ہے, حرام دو دفعہ کہا , کیا حکم ہے , کیا طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے ؟
واضح ہو کہ "تو مجھ پر حرام ہے" کے الفاظ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال ہوتے ہیں، لہذا یہ الفاظِ طلاق صریحِ بائن کے ہیں، جس سے بغیر نیت کے بھی طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے, اب اگر یہ دونوں میاں بیوی دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہوں تو باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے، تاہم اس تجدیدِ نکاح کےبعد سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): ومن الألفاظ المستعملة : علي الحرام فيقع بلا نية للعرف،( قوله فيقع بلانية للعرف )أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر،اھ
وفيه ايضاً: وعلي الحرام فيقع بلانية للعرف وقال ابن عابدين تحتہ ، كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية ، اهـ (252/3)