شوہر نے مشروط طلاق دی اور شرائط پوری ہونے سے پہلے ارادہ کر لیا کہ مجھے شرائط ختم کرنی ہے ،مگر کسی نے اسے بتایایہ ختم نہیں ہوسکتیں , یہ کیسی ختم کی جاسکتی ہیں ؟ اب شرط پوری ہو گی تو طلاق ہوگی یا اسکی نیت کی وجہ سے بچ جائیگا رشتہ ؟
سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں سوال مکمل وضاحت کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ای میل کر دے تو اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا۔ تاہم اتنی اصولی بات ذہن نشین رہے کہ اگر شوہر کسی شرط پرمعلق طلاق دیدے تو طلاق سے بچنے کیلئے اس شرط سے رجوع کر ناشرعاً ًکافی نہیں، بلکہ جب بھی شرط پائی جائیگی تو معلّق طلاق واقع ہو جائیگی۔
کمافي الفتاوى الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق(1/420)-
وفی المبسوط للسرخسی: والمعلق بالشرط ليس بطلاق، وإنما يصير طلاقا عند وجودالشرط فما صح تعليقه بالشرط ينزل عند وجود الشرط جملة اھ (4/127)-