طلاق کا مطالبہ بیوی کرے، شوہر کہے " جاتو آزاد ہے " جا چلی جا" سے طلاق ہو جائیگی ؟
واضح رہے کہ لفظ " آزاد " طلاق کے معنی میں صریح ہے اور صریح میں نیت کے ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کے مطالبۂ طلاق کے جواب میں مذکور الفاظ " جاتو آزاد ہے " کہہ دیے تو اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ الفاظ " جا چلی جا" سے اگر مزید طلاق دینے کی نیت نہ ہو تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، چنانچہ اگر شوہر دورانِ عدت رجوع بھی کر چکا ہو تو اس سے رجوع بھی شرعا معتبر ہو چکا ہے اور نکاح بدستور برقرار رہے گا , لیکن آئندہ کیلئے شوہر کو صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا لہذا آئندہ اس معاملہ میں خوب اختیاط کی جائے۔
كما في رد المحتار: فاذا قال رها کردم ای سرحتک یقع به الرجعي مع ان اصله كناية ايضا ، وماذاك الا لانه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق - (299/3)
وفي البحر الرائق : وحاصل ما فى الخانية ان من الكنايات ثلاثة عشر لا يعتبر فيها دلالة الحال ولا تقع الا بالنية (الى قوله )اخرجى ، اذهبي ، انتقلی ، انطلقی اھ(327/3)