میں کنیڈا میں رہتا ہوں، اور کنیڈا کے قانون کے مطابق اگر میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ، تو وہ اپنے شوہر کے تمام اثاثوں کے پچاس فیصد کا دعوی کر سکتی ہے ؟ کیا اسلام میں اسکا اس طرح پچاس فیصد اثاثے کالینا حلال ہے ؟ اور وہ کئی سالوں کیلئے نفقہ بھی لیتی ہے -
کسی عذر کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینے کی نوبت آجائے ، تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کے ذمہ فقط طے شدہ حق مہر اور عدت کے دوران کا نان و نفقہ لازم ہو گا، اگر چہ ملکی قانون طلاق ہو جانے کی صورت میں سائل کو ذاتی املاک کا پچاس فیصد حصہ بیوی کو دینے پر مجبور کرے ، مگر مسلمان بیوی کیلئے اس کا مطالبہ کرنا یا اس کو لیکر اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافي التنزيل العزيز: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا} [النساء: 4]
وفي تفسير القرطبي: الثانية - المطلقات أربع: مطلقة مدخول بها مفروض لها وقد ذكر الله حكمها قبل هذه الآية، وأنه لا يسترد منها شي من المهر، وأن عدتها ثلاثة قروء. (1973)۔
وفي تفسير القرطبي : التاسعة- واختلف العلماء في معنى الآية، فقال الحسن ومجاهد وغيرهما: المعنى فما انتفعتم وتلذذتم بالجماع من النساء بالنكاح الصحيح (فآتوهن أجورهن) أي مهورهن، فإذا جامعها مرة واحدة فقد وجب المهر كاملا إن كان مسمى، أو مهر مثلها إن لم يسم. اھ(5/129) ۔
وفی المنھاج فی شعب الایمان: وقد جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم: (لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه). اھ (3/43)۔
وفی العنایة شرح الھدایة: وقوله (ومن سمى مهرا عشرة) فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها) الی قولہ (وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى) لقوله تعالى {وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن} [البقرة: 237] الآية(3/233)