میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق کے پیپر ز بھیجے جو کہ ان کے بھائی کے ایڈریس پر بھیجے گئے , ان کے والد کے کہنے پر ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے پیپرز تو بھیج دیے ہیں،مگر ان کے گھر والوں نے وہ آگے نہیں بھیجے ہیں، اور اب وہ میرے شوہر کو بھی یہی بات بولتے ہیں، کہ تم کسی سے بھی ذکر مت کرنا، جبکہ میں خود بھی گواہ ہوں کہ میرے سامنے بھی انہوں نے تین دفعہ طلاق دی ہے ، اب ایسی صورت میں کیا پہلی بیوی کو طلاق ہو گئی یا نہیں ؟ اور اب ان کا اس سے تعلق رکھنا جائز ہو گا کہ نہیں ؟پیپر بھیجے ہوئے ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے ، مہربانی کر کے بتائیں کہ کیاایسی صورت میں پہلی بیوی سے اب بھی رشتہ باقی رہا ہے کہ نہیں ؟ جزاک اللہ خیراً
سوال میں ذکر کر دہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق کے پیپر ز بھیج دیے ہوں اور ان پیپر ز میں سائلہ کے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں تو ایسی صورت میں سائلہ کی سوتن پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دونوں کا باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہگار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی صحیح البخاری : وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»(7/43)-
وفی الھندیہ: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. اھ(1/378)-
وفی الدرالمختار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة (الی قولہ) ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابةاھ(3/246)
وفی الھندیة:(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.(1/349)-