میرے شوہر نے مجھے ایک بار پہلے لڑائی میں طلاق کا بولا ، واضح نہیں بولا کہ ’’ میں تمہیں طلاق ‘‘اور میں نے آگے سے انہیں روک دیا پھر ایک بار میسج پے بولا کہ میں تمہیں ہوش میں طلاق دیتا ہوں، پھر تیسری بار بولا کہ میں طلاق دیتا ہوں، لیکن بعد میں قسم کھائی کہ میں نے تمہیں کا لفظ نہیں استعمال کیا ، صرف تمہیں ڈرانے کیلئے کہا، اور طلاق کا ارادہ بھی نہیں تھا ،پلیز میر ی مدد کریں! کیا اس سے طلاق نہیں ہوئی؟
سائلہ کے شوہر نے پہلی دفعہ لڑائی جھگڑے کے دوران اگر فقط یہ ادھورا جملہ " میں تمہیں طلاق " کہا ہو ، اسکےعلاوہ اس نے کوئی اور جملہ نہ بولا ہو، تو فقط اس ادھورے جملے کیوجہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی ، البتہ اسکے بعد سائلہ کے شوہر نے بذریعہ میسج جو جملہ سائلہ کو بھیجا تھا” میں تمہیں ہوش میں طلاق دیتا ہوں "اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی ، جسکے بعد سائلہ کے شوہر کو عدت کے دوران رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ اگر سائلہ کے شوہر نے عدت کے دوران رجوع کیاہو، اور اسکے بعد سائلہ کو مذکور الفاظ ”میں طلاق دیتا ہوں “بولے ہوں ، یا پھر پہلی طلاق کی عدت کے دوران اس نے یہ الفاظ بولے ہوں، تو اس سے سائلہ پر دوسری طلاق رجعی بھی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ سائلہ کے شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا اختیار حاصل ہے، چنانچہ اگر سائلہ کے شوہر نے عدت کے دوران زبانی یا بوس و کنار وغیرہ کے ذریعے عملی طور پر رجوع کر لیا تو دونوں کا نکاح حسب ِ سابق برقرار رہے گا ، البتہ اگر شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا، جسکے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی البتہ اگر دونوں میاں ہوگی دوبارہ ازدواجی حیثیت سے رہنا چاہیں تو اس کیلئے باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنالازم ہو گا ، بہردوصورت سائلہ کے شوہر کو آئندہ فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا ، اس لئےآئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
كما في صحيح مسلم ط۔ترکيه:عن عائشة قالت: « جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك. قالت: وأبو بكر عنده، وخالد بالباب ينتظر أن يؤذن له، فنادى يا أبا بكر ألا تسمع هذه؟ ما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم .»؟! (4/154)-
وفی الدرالمختار:باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)(الی قوله) (ويقع بها)(3/247)-
وفی الھدایة: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض "(2/254)-