السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
محترم جناب مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں،اگر طلاقِ بائن واقع ہوجائے تو کن صورتوں میں تجدیدِ نکاح ہوسکتاہے (تجدیدِ نکاح کا کیاطریقہ ہے) اور کن صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،اس ناچیز کی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے۔(آمین)
اگر ایک یا دو طلاقِ بائن واقع ہوں،تو دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے کیلئے تجدیدِ نکاح لازم ہوتاہے، تجدیدِ نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کے ذریعے نکاح کیا جائے،تاہم سائل کو جو صورت درپیش ہے،اس کی وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردے،تو اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کمافی الھدایة: "وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " اھ(2/258)۔