"بائی پولر افیکٹیو ڈس آرڈر" میں مبتلا شخص کی طلاق کا کیا حکم ہے ؟ بینوا تو جروا
ہماری معلومات کے مطابق مذکور بیماری میں مبتلاشخص مختلف کیفیات کا شکار ہوتا ہے ،بعض اوقات وہ بلاوجہ حد سے زیادہ خوشی اور مسرت محسوس کر رہا ہوتا ہے، جبکہ کبھی وہ بغیر کسی وجہ کے مایوسی،غم ورنج میں مبتلاء ہوتا ہے، چنانچہ اس بیماری کے درجات اور اس میں مبتلاء شخص کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں ، لیکن اس پر بیہوشی یا جنون کی کیفیت طاری نہیں ہوتی -
لہذا اس بیماری میں مبتلاء شخص کے طلاق واقع ہونے یانہ ہونے کے متعلق مطلقا کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا ہے بلکہ اس شخص کی کیفیت اور اسکے کلام کے سیاق و سباق پر غور کرنے کے بعد کوئی حکم لگایا جاسکتا ہے۔