مفتی صاحب ! پیشاب اچھی طرح کرنے کے بعد کبھی آدھے گھنٹے بعد کبھی پندرہ منٹ بعد معمولی تری نکلتی ہے ، لیکن اس کے اخراج کا مجھے کوئی علم نہیں ہوتا ؟ یہ ایک دو مرتبہ خارش کی وجہ سے ہاتھ لگایا تو معلوم ہوا ، اب ہر وقت ہاتھ لگا کر چیک بھی نہیں بندہ کر سکتا , اب اس اخراج کا کوئی وقت بھی نہیں اور اخراج کا علم بھی نہیں ہوتا ، تو کیا ایسی غیر محسوس تری جس کا بندے کو علم بھی نہ ہو ،قابل معافی ہے یا نہیں؟ ایک مولانا صاحب نے بتایا یہ قابل معافی ہے ، وہ مولانا صاحب مفتی نہیں ہیں ، اب آپ کا کسی نے نمبر دیا ، اسلئے آپ سے پوچھ رہا ہوں با حوالہ اگر جواب مل جائے تو نوازش ہو گی ؟ اور مجھے وہم بالکل نہیں ہے ؟ اور یہ اخراج غیر محسوس تری کا کب سے ہے؟مجھے بھی علم نہیں۔
سائل کو چاہیئے کہ پیشاب کرنے کے بعد اطمینان کیا کرے ، جب قطرے آنا بند ہو جائیں تو اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھا کرے، تاہم اگر اس کے بعد بھی سائل کو پیشاب کے قطرے آجائیں اور سائل کو اس کا علم بھی ہو جائے تو اس سے سائل کا وضو ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضو کرنا بھی لازم ہو گا۔
کما فی سنن أبی داود : عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : «إذا ذهب أحدكم إلى الغائط ، فليذهب معه بثلاثة أحجار يستطيب بھن ، فإنهاتجزئ عنه اھ (10/1)۔
و فى مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح : يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول و يطمئن قلبه على حسب عادته إما بالمشي أو التنحنح أو الاضطجاع أو غيره و لا يجوز له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال رشح البول اھ (إلى قوله) (حتى يزول أثر البول" بزوال البلل الذي يظهر على الحجر بوضعه على المخرج "و حينئذ يطمئن قلبه" أي الرجل و لا تحتاج المرأة إلى ذلك بل تصبر قليلا ثم تستنجی ام (ص: 23)