السلام علیکم !
محترم مفتی صاحب ! دو سال قبل ایک شخص نے مجھ سے کچھ پیسے لیے، اور پھر غائب ہوگیا، اور اب وہ مجھے مل گیا ہے، میں نے اس کو اپنی بیوی کے زیورات فروخت کیے تھے، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہی رقم وصول کر سکتا ہوں ،جو میں نے دو سال قبل دی تھی ،یا میں موجودہ دور کے حساب سے رقم وصول کروں، اس لئے کہ اس وقت اس کی قیمت تیرہ ہزار پانچ سو روپے تھی (۱۳۵۰۰) اور اب اس کی قیمت چو بیس ہزار ہے۔
(۲) کیا وظیفہ پڑھنے کیلئے اجازت لینا ضروری ہے، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اجازت کے بغیر وظیفہ کام نہیں کرتا۔
جب سائل نے مذکورہ شخص کو رقم قرض دی تھی، تو اب وہ اس سے مذکور رقم ہی واپس لے سکتا ہے، اس سے زاید نہیں، ورنہ سود خوری کا گناہ ہو گا ۔
(۲) جی ہاں! اگر کسی شیخ و مرشد اور عالم با عمل سے اس کی اجازت لے لی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ واللہ تعالی اعلم !
وفي الدر المختار: لأن الديون تقضى بأمثالها اھ (3/ 840)-
وفي البحوث : القروض يجب فى شريعة الإسلامية أن تقضى بامثالها اھ (۱/ ۱۷۷)۔
وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى. (1/ 279)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0