السلام علیکم !محترم میرے شوہر ملک سے باہر ہوتے ہیں سال میں ایک ماہ کے لیے آتے ہیں ہربار بول کر جاتے ہیں کہ اب آخری دفعہ جارہاہوں پھر چلے جاتے اس بات کو لیکر میرا ان سے جھگڑا ہوا ( 2 سال سے اب بھی باہر ہیں) میں نے غصے میں آکر کہہ دیا کہ مجھے طلاق دے دو میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی ہوں تو میرے شوہر نے مجھے سے کہا کہ بکواس بند کرو تو آزاد ہے وفعہ ہو جا یہ کہہ کر فون بند کراب میرے شوہر کا کہنا ہے کہ اللہ گواہ ہے کہ میراارادہ طلاق کا ہرگز نہیں تھا میرے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہوتی ہے، یہ ساری باتیں فون پر ہوئی تھی، میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں ۔
واضح ہو کہ آزاد ہو کا لفظ ہمارے عرف میں صریح طلاق کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا اسوال میں ذکر کر دو بیان اگر واقعۃً درست اورمبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے فون پر بات چیت کے دوران یہ الفاظ " تو آزاد ہے کہہ دیئے ہوں تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے جس کے بعد سائلہ کے شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے، چنانچہ اس نے اگر عدت کے دوران زبانی یا عملی طور پر رجوع کر لیا تو اس سے دونوں کا نکاح بحال رہیگا اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکیں گے، تاہم آئندہ کیلیے سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
کمافي القرآن المجيد: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [البقرة: ٢٣٠)
وفي الفتاوى الهندية :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقھا أو يموت عنها كذا في البداية (٤٧٣/١)
وفی ردالمحتار: قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نيةاھ(3/299)