میرا نام اسرار احمد ہے ،میرے اور میری بیوی کے درمیان چھوٹی سی بات پر لڑائی ہوئی، اور میری بیوی بچوں کو لے کر چلی گئی، میرے دماغ میں یہ تھا کہ جب وہ واپس آئے گی تو میں اس کو ماروں گا ،لیکن جب وہ واپس آئی تو مجھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا ،اور میں نے غصہ میں آکر اس کو کہا "تم آزاد ہو ،تم آزاد ہو ،تم آزاد ہو،میں نے یہ جملہ یعنی "تم آزاد ہو" تین دفعہ کہا میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور نہ ہی میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں اس کو طلاق دوں گا اور نہ ہی میں نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ تم میری طرف سے آزاد ہو ،بلکہ میں نے صرف یہ کہا کہ تم آزاد ہو ،تم آزاد ہو ،تم آزاد ہو ،سوال یہ ہے کہ میری بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں ؟ اور کیا ہمارا دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟ خیال رہے کہ ہمارے چار بچے ہیں اور ہماری شادی کو پندرہ سال ہوئے ہیں ۔
واضح ہو کہ "آزاد ہو" کا جملہ ہمارے عرف میں صریح طلاق کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے ، اور طلاق کی نیت کیے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ سائل نے جب اپنی بیوی کو غصہ میں مذکور الفاظ" تم آزاد ہو" تین مرتبہ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ با ہم عقدِ نکا ح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ہے ادا کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو، تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دے گا، تا کہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے , مکروہ ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہو ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما قا ل الله تعالى في القرآن الكريم :فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غیرہ الآية (البقرة (230)۔
وفی سنن أبي داود:عن عائشة قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن رجل طلق امرأته - يعني ثلاثا - فتزوجت زوجا غيره، فدخل بها، ثم طلقها قبل أن يواقعها أتحل لزوجها الأول؟ قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر، ويذوق عسيلتها» اھ (2/294)۔
وفیه ایضاً:عن علی قال اسماعیل:و اراہ قد رفعه الی النبی صلی اللہ علیه وسلم ان النبی صلی اللہ علیه وسلم قال لعن اللہ المحلل والمحلل له (2/227)۔
وفي رد المحتار: فإذا قال " رها كردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق(ج 3 ص (299)۔
وفی الدر:(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللک (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال اھ (3/414) -