کسی کو طلاق کا مسئلہ بتاتے اورسمجھاتے ہوئے واحد متکلم کا صیغہ بولا اور اس وقت ذہن میں اپنی زوجہ کا خیال آیا اور جم گیا کیا یوں ہونے سے کچھ واقع ہوگی ؟
کسی کو مسئلہ بتاتےیا سمجھاتے وقت اگر طلاق کے الفاظ ادا کیے جائیں اگر چہ متکلم کے صیغے کیسا تھ ہوں اور ان الفاظ سے بیوی کو طلاق دینا مقصود نہ ہو تو اس سے شرعا ًطلاق واقع نہ ہو گی۔
كما في الرد:لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاءوديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لايقع أصلا ما لم يقصد زوجته اھ (250/3)