اگر مسجد میں اکیلا نماز پڑھتے وقت جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا اکیلا نماز پڑھنے والا سلام پھیر سکتا ہے اور جماعت میں شامل ہوسکتا ہے یا اکیلا نماز مکمل پڑھے پھر جماعت کھڑی ہوجائیں تو کیا دوبارہ باجماعت نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔ . وضاحت فرمائیں
اگر کوئی شخص فرض نماز شروع کرچکا ہو اور اسی دوران فرضوں کی جماعت شروع ہوجائے،تو اگر وہ فرض نماز دو رکعت والی ہے جیسے کہ فجر کی نماز تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو اس نماز کو قطع کردے اور جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا ہو اور دوسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو توبھی قطع کردےاور جماعت میں شامل ہوجائےاور اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا ہوتو دونوں رکعت پوری کر لےاور اگر وہ فرض نماز تین رکعت والی ہو جیسےمغرب تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو قطع کر دے اور اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا ہو تو اپنی نماز کو پوری کر لے اور بعد میں جماعت کے اندر شریک نہ ہو، کیونکہ نفل تین رکعت کے ساتھ جائز نہیں اور اگر وہ فرض نماز چار رکعت والی ہو جیسے ظہر، عصر، عشاء تو اگر پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو قطع کردے اور اگر سجدہ کر لیا تو دو رکعت پر التحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے اور جماعت میں مل جائے اور اگر تیسری رکعت شروع کر دی اور اس کا سجدہ نہ کیا ہو تو قطع کردے، اور اگر سجدہ کر لیا ہو تو نماز پوری کر لے اور جن صورتوں میں نماز پوری کر لی جائے ان میں سے مغرب ، فجر اور عصر میں تو دربارہ جماعت میں شریک نہ ہو اور ظہر اور عشاء میں شریک ہو جائے اور جن صورتوں میں قطع کرنا ہو تو کھڑے کھڑے ایک سلام پھیر دے۔
اور اگر کوئی شخص نفل نماز شروع کر چکا ہو اور فرض جماعت سے ہو نے لگے تو نفل نماز نہ توڑے، بلکہ اس کو چاہیے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اگرچہ چاررکعت کی نیت ہو۔
اور اگر ظہر اور جمعہ کی سنت مؤکدہ اگر شروع کر چکا ہو اور فرض ہونے لگے تو ظاہر مذہب یہ ہے کہ دو رکعت پر سلام پھیر کر شریک جماعت ہوجائے اور بہت سے فقہاء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ چار رکعت پوری کر لے اور اگر تیسری رکعت شروع کر دی تو اب چار کا پورا کرنا بالاتفاق ضروری ہے۔
اور اگر کوئی شخص فرض نماز تنہا پڑھ چکا ہو اس کے بعد دیکھے کہ وہی فرض نماز جماعت سے ہو رہی ہے تو اس کو چاہیے کہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہو جائے بشرطیکہ ظہر اور عشاء کا وقت ہو اور فجر، عصر، مغرب کے وقت جماعت میں شریک نہ ہو، اس لیے کہ فجر اور عصر کی نماز کے بعد نفل نمازمکروہ ہے اور مغرب کے بعد اس لیے کہ یہ دوسری نماز نفل ہوگی اور نفل میں تین رکعت منقول نہیں۔ (مأخوذ از بہشتی زیور)
ففی مشكاة المصابيح: وعنه قال: كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ثم يرجع إلى قومه فيصلي بهم العشاء وهي له نافلة. أخرجه الشافعي في مسنده والطحاوي والدارقطني والبيهقي(1/ 362)
و فی مشكاة المصابيح: وعن سليمان مولى ميمونة قال: أتينا ابن عمر على البلاط وهم يصلون. فقلت: ألا تصلي معهم؟ فقال: قد صليت وإني سمعت رسول الله يقول: «لا تصلوا صلاة في يوم مرتين» . رواه أحمد وأبو داود والنسائي(1/ 364)
و فی الدر المختار : وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها. والمختار أنه جابر للأول،لأن الفرض لا يتكرر اھ۔(1/ 457)
و فی حاشية ابن عابدين: وهو أن صلاة الجماعة واجبة على الراجح في المذهب أو سنة مؤكدة في حكم الواجب كما في البحر وصرحوا بفسق تاركها وتعزيره، وأنه يأثم، ومقتضى هذا أنه لو صلى مفردا يؤمر بإعادتها بالجماعة، وهو مخالف لما صرحوا به في باب إدراك الفريضة من أنه لو صلى ثلاث ركعات من الظهر ثم أقيمت الجماعة يتم ويقتدي متطوعا، فإنه كالصريح في أنه ليس له إعادة الظهر بالجماعة مع أن صلاته منفردا مكروهة تحريما أو قريبة من التحريم، فيخالف تلك القاعدة، إلا أن يدعي تخصيصها بأن مرادهم بالواجب والسنة التي تعاد بتركه ما كان من ماهية الصلاة وأجزائها فلا يشمل الجماعة لأنها وصف لها خارج عن ماهيتها، أو يدعي تقييد قولهم يتم ويقتدي متطوعا(1/ 457)
وفی الھدایہ:ومن صلى ركعة من الظهر ثم أقيمت يصلي أخرى " صيانة للمؤدي عن البطلان " ثم يدخل مع القوم " إحرازا لفضيلة الجماعة " وإن لم يقيد الأولى بالسجدة يقطع ويشرع مع الإمام هو الصحيح " لأنه بمحل الرفض وهذا القطع للإكمال بخلاف ما إذا كان في النفل لأنه ليس للإكمال ولو كان في السنة قبل الظهر والجمعة فأقيم أو خطب يقطع على رأس الركعتين يروى ذلك عن أبي يوسف رحمه الله وقد قيل يتمها " وإن كان قد صلى ثلاثا من الظهر يتمها " لأن للأكثر حكم الكل فلا يحتمل النقض بخلاف ما إذا كان في الثالثة بعد ولم يقيدها بالسجدة حيث يقطعها لأنه محل الرفض ويتخير إن شاء عاد فقعد وسلم وإن شاء كبر قائما ينوي الدخول في صلاة الإمام " وإذا أتمها يدخل مع القوم والذي يصلي معهم نافلة " لأن الفرض لا يتكرر في وقت واحد " فإن صلى من الفجر ركعة ثم أقيمت يقطع ويدخل معهم " لأنه لو أضاف إليها أخرى تفوته الجماعة وكذا إذا قام إلى الثانية قبل أن يقيدها بالسجدة وبعد الإتمام لا يشرع في صلاة الإمام لكراهة التنفل بعد الفجر وكذا بعد العصر لما قلنا وكذا بعد المغرب في ظاهر الرواية لأن التنفل بالثلاث مكروه وفي جعلها أربعا مخالفة لإمامه(ج:1،ص:77)
واللہ اعلم بالصواب!