قریبی رشتہ دار کے انتقال کے بعد بہت سے لوگ میت کے رشتہ داروں کے پاس جاتے ہیں، کیا جو رشتہ دار جس کا لاہور میں انتقال ہو گیا ہو اور میں کراچی میں رہتا ہوں، تو کتنا اہم اور ضروری ہے کہ فوراً پہنچا جائے مہنگی فلائٹ کے ذریعے ؟ کیا جنازے سے پہلے جلدی جانا اور زیارت کرنا کوئی اسلامی مجبوری ہے؟
واضح ہو کہ قریبی رشتہ دار کی وفات کے بعد دور دراز سے میت کے عزیز و اقارب کا تعزیت کے لئے پہنچنا اگرچہ شرعاً لازم اور ضروری نہیں ، لیکن اگر کسی شخص کی مالی وسعت ہو اور وہ اس موقع پر لواحقین کے ساتھ تعزیت اور تسلی کے لئے دور دراز سے پہنچ جائے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت بھی نہیں، بلکہ غم کے موقع پر مرحوم کے لواحقین کو تسلی دینے کی نیت سے آنے پر امید ہے کہ وہ عند اللہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔
في سنن ابن ماجه : عن أنس بن مالك قال : لما قبض إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه و سلم ، قال لهم النبي صلى الله عليه و سلم : " لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه اھ (1/ 473)-
في الدر المختار : و بالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام ، و أولها أفضل . و تكره بعدها إلا لغائب اھ (2/ 241)-
و في الفتاوى الهندية : و يستحب أن يقال لصاحب التعزية : غفر الله تعالى لميتك و تجاوز عنه و تغمده برحمته و رزقك الصبر على مصيبته و آجرك على موته ، كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة . و أحسن ذلك تعزية رسول الله - صلى الله عليه و سلم - «إن لله ما أخذ و له ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى» اھ (1/ 167)-
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0