امامت و جماعت

سیاہ، سرخ، فینسی اور مختلف رنگ کے کپڑوں میں امامت کرانے کا حکم - اپاہچ اور لولے لنگڑے شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
47294
| تاریخ :
2021-09-12
عبادات / نماز / امامت و جماعت

سیاہ، سرخ، فینسی اور مختلف رنگ کے کپڑوں میں امامت کرانے کا حکم - اپاہچ اور لولے لنگڑے شخص کی امامت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! اگر امام صاحب اکثر مکمل سیاہ لباس یا سرخ لباس یا فینسی رنگ برنگے ملبوسات میں امامت کروائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟کیا لنگڑا لولا اپاہچ امامت کروا سکتا ہے؟ فتویٰ جاری فرما کر ممنون فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مخصوص ایّام کے علاوہ مردوں کے لیے سیاہ رنگ کے کپڑے پہننے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ خالص لال رنگ کے کپڑوں کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے، البتہ اگر وہ کپڑا مکمل سرخ نہ ہو، بلکہ براؤن یا دھاری دار ہو، تو ایسی صورت میں مردوں کے لیے اس کا پہننا جائز ہے، چنانچہ اس طرح کے فینسی اور مختلف رنگ کے کپڑوں میں امامت کر ناشر عاً جائز اور درست ہے، اسی طرح اپاہچ یا لولے لنگڑے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہےکہ منصب امامت کے لیے صحیح الاعضاء شخص کا انتخاب کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی فيض الباري: واعلم أن في الثوب الأحمر اختلافا وانتشارا في كتب المتأخرين، ولو صادفنا «تجريد القدوري» لاقتصرنا عليه. والحافظ ابن تيمية رحمه الله تعالى يأخذ بقول الحنفية من هذا الكتاب، فدل على اعتباره عنده. وحاصل ما لخصت في تلك المسألة: أن اللون إن كان من الزعفران أو العصفر كره تحريما للرجال، وغيرهما إن كان أحمر قانيا كره تنزيها وإلا لا، وإن كان مخططا بخطوط حمراء بلا كراهة. وقال بعضهم باستحبابه. وجاز الكل للنساء، ثم إن تلك المسألة في الثياب دون الأدم اھ (2/ 26)
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله ومفلوج وأبرص شاع برصه) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه، فالاقتداء بغيره أولى تتارخانية، وكذا أجذم برجندي، ومجبوب وحاقن، ومن له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة. والظاهر أن العلة النفرة، ولذا قيد الأبرص بالشيوع ليكون ظاهرا ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضا في المفلوج والأقطع والمجبوب، ولكراهة صلاة الحاقن أي ببول ونحوه اھ(1/ 562)
وفی حاشية ابن عابدين: (وكره لبس المعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال) مفاده أنه لا يكره للنساء (ولا بأس بسائر الألوان) وفي المجتبى والقهستاني وشرح النقاية لأبي المكارم: لا بأس بلبس الثوب الأحمر اهـ. ومفاده أن الكراهة تنزيهية لكن صرح في التحفة بالحرمة فأفاد أنها تحريمية وهي المحمل عند الإطلاق قاله المصنف اھ۔ (6/ 358) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وقار احمد زید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47294کی تصدیق کریں
1     327
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات