اگر کوئی شخص دل میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا میں نے طلاق کہا، اور زبان سے بس یہ کہتا ہے کہ کہا، تو کیا اس صورت میں طلاق ہو جائے گی ؟ اور اگر وہ طلاق سوچتے ہوئے بس یہ کہے کہ " کہا " تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی، جبکہ وہ طلاق کے لفظ نہ بولے ؟
دل میں طلاق سوچ کر زبان سے فقط " کہا " کہنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی، اس لئے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
في رد المحتار: قال الليث الوسوسة حديث النفس ، وانما قيل : موسوس ، لانه يحدث بما في ضميره، وعن الليث: لا يجوز طلاق الموسوس الخ (224/4)
و في حاشية الطحطاوى: على مراقي الفلاح: لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع و إن صحح الحروف اھ (1) / 219)۔