السلام علیکم " اگر غلطی سے شوہر یا بیوی نے کچھ گستاخانہ کلمات کہے ہوں ، تو اس کے لیے کیا کفارہ ہے اور اس کا نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟
نوٹ : واقعہ کچھ یوں ہوا تھا کہ میرے بیٹے کانام ۔۔۔۔ ہے اس کو ہم نے ایڈمیشن کے لیے بھیجا، جبکہ فارم پر کرنے میں تاخیر ہوئی، میری بیوی غصے میں تھی تو اس کو میں نے کہا کہ اس نے فارم میں نام غلط لکھا ہے محمد۔۔۔۔ کی جگہ ۔۔۔۔ لکھا ہے ، محمد کو نہیں لکھا تھا، تو میری بیوی نے غصے میں کہا " محمد کو گولی مارو" فارم کیوں پر نہیں کیا، اس بات پر میری بیوی بھی شرمندہ ہے اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کی بیوی نے لفظ ’’ محمد‘‘ کے متعلق جو الفاظ استعمال کئے ہیں " کہ محمد کو گولی مارو " اگر اس سے حضرت محمد ﷺ کی اہانت مقصود نہ ہو، بلکہ سائل کی بیوی نے مذکور الفاظ اپنے بیٹے کو ڈانٹنے کے لیے استعمال کئے ہوں، تو اس کی وجہ سے اس پر گستاخی کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، تاہم احتیاط کا تقاضہ یہ ہےکہ وہ مذکور الفاظ کہنے پر ندامت کے ساتھ بصدق دل تو بہ و استغفار کر کے اور آئندہ کے لیے ایسے کلمات کہنے سے مکمل اجتناب بھی کرے۔
و في معجم ديوان الأدب : الشعائر، وهي: كُلُّ ما جُعِل علماً لطاعة الله سبحانه اھ (۱/ ۴۲۹)
و في لسان العرب: وقال الزجاج في شعائر الله: يعني بها جميع متعبدات الله التي أشعرها الله أي جعلها أعلاما لنا، وهي كل ما كان من موقف أو مسعى أو ذبح، وإنما قيل شعائر لكل علم مما تعبد به لأن قولهم شعرت به علمته، فلهذا سميت الأعلام التي هي متعبدات الله تعالى شعائر. (4/ 414)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي - صلى الله عليه وسلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق (قوله فهو ككفر العناد) أي ككفر من صدق بقلبه وامتنع عن الإقرار بالشهادتين عنادا ومخالفة فإنه أمارة عدم التصديق اھ (4/ 222)
و في الفتاوى الهندية: رجل كفر بلسانه طائعا وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافرا ولا يكون عند الله مؤمنا كذا في فتاوى قاضي خان ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط اھ (2/ 283)
وفيها أیضا: ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير فهو مسلم وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط (2/ 283) واللہ اعلم بالصواب