میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے میسج میں 3 بار لکھا ”میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق دی طلاق دی “ جب کہ ہمارا صرف نکاح ہوا تھا , رخصتی نہیں ہوئی تھی نہ کوئی ایسی تنہائی میسر ہوئی جس میں ہمبستری کر سکتے , مگر ایک بار مکان ایسا تھا جس کا دروازہ کھلا تھا , یہ اندیشہ بھی تھا کوئی آ نہ جائے اس وقت بیوی حالت حیض میں تھی اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کرے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کا فقط نکاح ہوا ہو , خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو، اور جس خلوت کا سائلہ نے ذکر کیا ہے وہ خلوت صحیحہ نہیں اس لئے سائلہ کے شوہر کے الگ الگ جملوں میں طلاق لکھنے سے سائلہ پر پہلی طلاق سے طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے، جبکہ بعد کی دو طلاقیں غیر مؤثر ہوئی ہیں، لہذا اب سائلہ اگر چاہے تو اپنی مرضی سے عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح بھی کر سکتی ہے، جبکہ باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں سابقہ شوہر سے تجدیدِ نکاح بھی کر سکتی ہے، تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں سائلہ کے شوہر کے لئے آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو سائلہ اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔
کمافي الهندية :والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا كذا في فتاوى قاضي خان - اھ (۳۰۲/۱)
في الدر المختار : (والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل اھ (3/114)۔
وفی الھندیة: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.اھ(1/378)۔
في الدر المختار : (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية)(3/286)۔
وفی الھندیة: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية. والأصل في هذه المسائل أن الملفوظ به أولا إن كان موقعا أولا وقعت واحدة وإذا كان الملفوظ به أولا موقعا آخرا وقعت ثنتان اھ(1/373)۔