مفتی صاحب مجھے دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں
1: اگر کوئی سابقہ شوہر سے حلالہ کی نیت سے کسی شخص سے مدد مانگے کہ وہ شخص کم سے کم درجہ کا حلالہ کرے اور بوس و کنارکے بنا عورت کو گرم کیے بغیر اپنا عضو خاص کو بنا سختی کے , صرف ٹوپی تک دخول کرنے بعد اپنا عضو باہر نکالے اور پھر اسی رات یا کچھ دنوں بعد طلاق دے تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائیگی ، جبکہ عورت کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے -
2: اور اگر عورت کو سب کا علم ہو جائے تو اس صورت میں کیا حلالہ ہو جائیگا ؟ رہنمائی ، فرمائیں۔
سوال میں مذکور طریقے کے مطابق بھی حلالہ ہوجاتا ہے، خواہ عورت کو صورتحال معلوم ہو یا نہ ہو، لیکن حلالہ اس شرط کے ساتھ کروانا کہ دوسرا شوہر بوس کنار وغیرہ نہیں کرے گا ، یا مکمل دخول نہیں کرے گا یا وہ ایک رات یا چند گھنٹوں بعد طلاق دے گا ناجائز عمل ہے ، ایسا حلالہ کرنے ، کروانے والوں پر اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ، اس لئے اس طرح باقاعدہ ایگریمنٹ کے ساتھ حلالہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی سنن ابی داؤد: عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله المحلل، والمحلل له».(2/227)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت : كنت عند رفاعة ، فطلقني ، فأبت طلاقي ، فتزوجت عبدالرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته و يذوق عسيلتك»(3/168)۔
و فی الدرالمختار: قلت: و فی المجتبى : الصواب حلها بدخول الحشفة مطلقا، لكن في شرح المشارق لابن مالك: لو وطئها وهي نائمة لا يحلها للأول لعدم ذوق العسيلة، وينبغي أن يكون الوطء في حالة الإغماء كذلك. (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال اھ (3/414)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0