ایک سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " ایک مرتبہ ، دو یا تین دن بعد ہماری بات چیت ہوئی، اور مسئلہ کو حل کر دیا، اور ہم نے رجوع کر لیا، میراسوال ابھی اس بارے میں ہے کہ میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی قرآن مجید کا ترجمہ سنتا ہوں، سورۃ الطلاق کے ترجمہ کے دوران اس نے فرمایا کہ رجوع کے وقت دو گواہ بنانا ضروری ہے ، ہم نے جس وقت رجوع کیا اس وقت ہمارے پاس گواہ نہیں تھے بلکہ رجوع کے وقت ہم دونوں اکیلے تھے، صرف میں اور میری بیوی اور کوئی گواہ نہیں تھا۔
واضح ہو کہ طلاق رجعی دینے کے بعد اگر شوہر عدت میں رجوع کرنا چاہے تو اسکے لئے گواہوں کا موجود ہونا اگرچہ بہتر ہے ،لیکن شرعا ًیہ کوئی لازم اور ضروری نہیں، بلکہ گواہوں کے بغیر بھی رجوع ہو جاتا ہے، لہذا سائل نے جب ایک طلاق دینے کے دو، تین دن کے بعد رجوع کر لیا تھا، تو وہ رجوع شرعاً درست ہوا ہے ، دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، لہذا سائل کو بلاوجہ شکوک و شبہات میں نہیں پڑنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (قوله: وندب الإشهاد) احترازا عن التجاحد وعن الوقوع في مواقع التهم لأن الناس عرفوه مطلقا فيتهم بالقعود معها، وإن لم يشهد صح، والأمر في قوله تعالى {وأشهدوا ذوي عدل} [الطلاق: 2] للندب اهـ (3/ 401)