میرا سوال یہ ہیکہ کچھ دن پہلے میری بیوی سے میری لڑائی ہو رہی تھی وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی تھی، میں نے کہہ دیا " جاؤ تم آزاد ہو " اس کا شرعی حکم بتادیں۔
واضح ہو کہ " تم آزاد ہو " یہ الفاظ چونکہ عرف میں صریح طلاق کےلیے مستعمل ہیں اس لیے ان الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اس سے قبل یا بعد کبھی طلاق کے الفاظ استعمال نہ کئے ہوں تو مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہیکہ سائل اگر عدت میں رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے جس کے بعد دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، مگر آئندہ سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو سائل کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
کمافي رد المحتار: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اھ(3/299)