السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! (KMI30 INDEX)میزان گروپ شرعیہ کمپلائنس کے شیئر کا کیا حکم ہے، کیا ان شیئرز میں سرمایہ کاری کرنا حلال ہے؟
(KMI30 INDEX) میزان گروپ کے شیئرز میں درجِ ذیل شرائط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا جائز ہے،
(1) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں، وہ کمپنی کسی حرام کام میں ملوث نہ ہو۔
(2) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہو، بلکہ کمپنی نے فکسڈ اثاثے حاصل کر لیے ہوں، مثلاً بلڈنگ بنائی ہو، یا زمین خریدی ہو۔
(3) اگر کمپنی کا بنیاد کاروبار حلال ہو لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو، تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سود لین دین کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
(4) چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کاا یک حصہ ہے، وہ یہ کہ جب منافع تقسیم ہوں تو وہ شخص انکم اسٹیٹمنٹ کے ذریعہ معلوم کرلے کہ کمپنی کا کتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے، پھر جتنا حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو صدقہ کردے ، لہذا مذکور ہ بالا تمام شرائط کی پابندی کے ساتھ اگر شیئرز کی خرید وفروخت کی جائے، تو اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال ہوگا۔
کما فی الفقہ البیوع: وبجواز بيع الاسهم افتى كثير من علماء الهند، مثل الامام الشيخ اشرف على التهانوى رحمه الله تعالى : ولكن هذا الجواز يخضع لجميع شروط البيع ، فلو كانت الشركة لم تبدأ نشاطها ، وكانت موجوداتها مقتصرة على نقود، فان اسهم تلك الشركة لا تمثل الا نقوداً ، فلو بيع السهم بنقد في هذه الحالة ، فانه لا يجوز بيعها باقل او اكثر من قيمة الاسمية (الی قولہ) وكذالك ان كانت الشركة تجارتها حراما (الى قوله) وقالوا: ان حامل السهم يجب عليه ان يرفع صوته في الجمعية العمومية ضد الاقراض او الاقتراض الربوى، ولكم اذا رفض صوته بالاغلبية ودخل هذا الكسب المحرم فى ارباح الشركة ، فانه يجب عليه ان يتخلص من هذا الكسب المحرم بالتصدق بما يساوى حصته من الايراد الذي دخل في الشركة تبعاً من خلال هذا الايداع (الى قوله) وكذالك يجب ان تكون الاسهم مقبوضة لدى البائع قبل ان يبيعها الى آخر ، ان لا يكون بيعا مضافاً الى المستقبل ، وان لا يستلزم محظوراً آخر ، مثل الربا الخ(383/1)۔