میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق 2014 میں دی تھی، اور بعد میں رجوع کر لیا تھا شریعت کے مطابق , اب کسی بات پر غصے میں آکر میں نے دو بار لفظ طلاق بول دیا ہے کیا یہ تین طلاقیں تصور ہوں گی یا دو ؟ کیا میرے پاس رجوع کا کوئی حق باقی ہے ؟ مہربانی فرما کر رہنمائی کر دیں ؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں ایک طلاق دیکر عدت کے اندر بھی رجوع کر لیا تھا تو اسکے بعد سائل کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار تھا، اب جبکہ سائل نے بقیہ دو طلاقیں بھی دیدی ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پرتین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نا ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بغیر اپنی مرضی سے کسی دوسرے مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائیگی اس کے بعد اگر وہ دوسرا شخص ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ضروری ہے) کے بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دیدے گا تا کہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے , مکروہِ تحریمی ہے جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کر نا بلا شبہ جائز ور درست ہے۔
کمافي التنزيل العزيز : الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (230) الآية (البقرة/230)
وفي الهداية: واذا كان الطلاق ثلاثاً في الحرة او ثنتين فى الامة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها اهـ (409/2)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0