حضرت میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا اور مجھے اپنے غصے پر قابو نہیں رہا اور میرے منہ سے تین بار طلاق کے الفاظ نکل گئے میرا ارادہ نہیں تھاطلاق دینے کا اور نہ میری ایسی نیت تھی۔ آپ کیا کہتے ہے اس بارے میں ہمار ی ر ہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق کے صریح الفاظ کے ذریعے طلاق دینے سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق کے الفاظ کہہ دیئے ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في التتارخانية: في الظهيرية ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله یا مطلقة أنت طالق
وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق يك طلاق بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات". (429/427/4)
وفي بدائع الصنائع :وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عن الظاهر" ( 102/3).
وفي الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.كذا في الهداية"(473/3 )