میں نے دوسری شادی کورٹ میرج کی ہے، جس کو ایک سال ہو گیا ہے ، جبکہ میں پہلے بھی شادی شدہ ہوں ، یہ میری دوسری شادی ہے ، جب سب کو پتہ چلا تو مجھے کہا گیا کہ پہلی بیوی کو طلاق دو یا دوسری کو ، پہلی بیوی سامنے موجود تھی، جب دوسری اپنے گھر تھی سامنے موجود نہیں تھی میری اور دوسری بیوی کے درمیان یہ بات پہلے دن سے واضح تھی کہ جب تک میں خود نہ کہوطلاق ہے تب تک تم نے نہیں ماننا، میں نے آج تک اسے منہ سے نہیں کہا طلاق کا، جب کہ مجھ سے اس کی غیر موجودگی میں گھر والوں نے یہ کہا کہ طلاق دو ، ابھی لکھو ، تو میں نے لکھ دی، ساتھ دوسری بیوی کو کہا کہ ان کو ٹالنے کے لیے لکھ رہا ہوں، مجھے یہ بتائیں کہ طلاق ہو گئی ہےیا نہیں۔
واضح ہو کہ شرعاً طلاق واقع ہونے کے لئے بیوی کا سامنے موجود ہونا کوئی لازم نہیں، بلکہ اسکی غیر موجودگی میں بھی طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سائل نے اپنے گھر والوں کے اصرار پر اپنی دوسری بیوی کو جتنی طلاقیں لکھ کر دی ہیں اس پر اتنی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
کمافی الھندیة:يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة(1/353)
وفیھا ایضاً: رجل أكرهه السلطان ليوكل بطلاق امرأته فقال لمخافة الضرب والحبس أنت وكيلي ولم يزد على ذلك فطلق الوكيل امرأته ثم قال الموكل لم أوكله بطلاق امرأتي قالوا لا يسمع منه ويقع الطلاق كذا في البحر الرائق.اھ(1/354)