میاں بیوی کی طلاق کی صورت میں ایک چار سال کا لڑکا جو کہ ماں کے پاس ہے، اور باپ سے ہفتہ میں ایک دفعہ ملتا ہے۔ سات سال کی عمر میں بچےکو باپ کے حوالہ کرنا ہو گا یا سات سال کی عمر میں جو حالات و واقعات اور بچے کی فلاح کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہو گا ؟
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد بچے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، جبکہ سات سال کے بعد اگر کوئی . شرعی عذر نہ بشرتو والد بچے کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو اس وقت اسکی وضاحت کے بعد حکمِ شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
وفي الدر المختار: (ولا تجبر) من لها الحضانة (عليها إلا إذا تعينت لها) بأن لم يأخذ ثدي غيرها أو لم يكن للأب ولا للصغير مال به يفتي خانية وسيجیئ، في النفقة، وإذا أسقطت الأم حقها صارت كميتة، أو متزوجة فتنتقل للجدة بحراھ
وقال ابن عابدين: قيده في الظهيرية بأن لا يكون للصغير ذو رحم محرم حينند تجبر الأم كي لا يضيع الولد أما لو امتنعت الأم وكان له جدة رضيت بإمساكه دفع إليها لأن الحضانة كانت حقا للأم فصح إسقاطها حقها، وعزي هذاالتفصيل للفقهاء الثلاثة وعلله في المحيط بأنها لما أسقطت حقها بقي حق الولد.فصارت بمنزلة الميتة اھ ( ج 3 ص 559 سعيد).
وفي رد المحتار: وفي الفتح ويجبر الأب على أخد الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ ( ج 3 ص 566 سعيد).