اگر شوہر اپنی بیوی کو غصہ میں یہ کہے کہ " میں اپنے ہر کام سے آزاد کرتا ہوں "، ہر کام سے نیت کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کی تھی، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے بیوی کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں کہ " میں ہر کام سے آزاد کرتا ہوں " ، اس میں چونکہ طلاق کے علاوہ دیگر معنی کا احتمال بھی ہے ، اور شوہر کی نیت بھی " ہر کام سے " طلاق کے بجائے کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کی ہے، اس لئے اس سے مذکور شخص کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہو گی۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا اھ (3/ 299)-