وضو

خروج ریح کے مریض کے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
40768
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

خروج ریح کے مریض کے وضو کا حکم

میں ایک معذور بچہ ہوں ، میری پریشانی یہ ہے کہ میرا معدہ بہت خراب ہے ، جب میں وضو کرلیتا ہوں تو نماز کے دوران میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے ، میں اپنی معذوری کی وجہ سے دوبارہ وضو نہیں کرسکتا ، مجھے ابھی کیا کرنا چاہیئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر مذکور عذر اس قدر تسلسل کے ساتھ لاحق ہوتا ہو کہ اسے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی میسر نہ ہو کہ جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ فقط فرض نماز ادا کرسکے ، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور کے حکم میں ہے اور اس حکم کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئ ظہر کے لئےظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اسے اس‬‎ ‎‫دوران اتناوقت نہ ملے کہ وہ کامل طہات کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے توعصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ فرض نمازِ ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے‬‎ ‎‫نمازِ عصر باجماعت ادا کر لے ، اس دوران اگر ریح خارج بھی ہوجائے تو اس سےوضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح ‫مغرب و عشاء میں بھی وہ ‎ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کرلیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں‬‎ ‎‫ٹوٹے گا ،‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو ، تو شر عاً وہ معذور‬‎ ‎‫نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اسکے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ ہے۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء : 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق ، حتى لو توضأ على الانقطاع و دام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه الخ(ج 1 ص 305)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40768کی تصدیق کریں
0     740
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات