شوہر نے میسج میں طلاق کا لفظ لکھ کے دیا ہے، پورا نہیں لکھا، صرف طلاق طلاق طلاق لکھا، میرے شوہر دبئی میں ہے کیا طلاق ہو گئی یا نہیں ؟
سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کے ساتھ طلاق کے متعلق بات چیت کے دوران مذکور الفاظ " طلاق طلاق طلاق لکھ کر بھیجے ہیں، تواس سے سائل پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام عدت کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائیگی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ کی ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعی کے تحقیق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا از دواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر اسکا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اسکی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہئے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مندی ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
کمافی الھندیة:وإن قال أنت الطلاق أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا فإن لم تكن له نية أو نوى واحدة أو ثنتين فهي واحدة رجعية وإن نوى ثلاثا فثلاث ولو قال أنت طالق يقع الطلاق به ولا يحتاج فيه إلى النية ويكون رجعيا اھ(1/355)
وفیھا ایضاً: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1/472)
وفی الدرالمختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى الخ:(246)
وفی ردالمحتار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة(الی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ(3/246)