وضو

پیشاب کے بعد ، پیشاب کی نالی میں تری کا محسوس ہونا

فتوی نمبر :
39715
| تاریخ :
2020-03-03
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

پیشاب کے بعد ، پیشاب کی نالی میں تری کا محسوس ہونا

پیشاب (استنجاء ) کرنے کے بعد کیا پیشاب کی نالی میں جو پانی ہوتا ہے ، کیا اسے خشک کرنا ضروری ہے؟ ایک بندے نے وہ پانی خشک کرلیا اور وضو کر لیا ، لیکن تھوڑی دیر بعد پیشاب کی نالی میں پھر تری آ گئی ، کیا اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا ؟ اور نماز کا کیا حکم ہے ؟ شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی کو مثانے وغیرہ کی کمزوری کی وجہ سے قطروں کی بیماری ہو ، تو اسے چاہیۓ کہ پیشاب کرنےکے بعد پیشاب کی نالی کو بھی خشک کرلیا کرے ، تاکہ بعد میں وہ شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہو ، تاہم اگر اس کے بعد بھی پیشاب کی نالی میں پیشاب کا قطرہ آجائے ،عضو سے باہر نہ آئے تو ایسی صورت میں وضو نہیں ٹوٹےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی المحیط البرهانی : قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني رحمه الله : و تأويل هذا في الذي يرى البلل على طرف ذكره و قد استنجى ، فيحتمل أن يكون ذلك من بلل الغسل، فأما إذا علم الرجل أنه خرج من داخل الإحليل فعليه أن يتوضأ . و من أصحابنا من قال : و إن علم أنه خرج من ذكره لا ينتقض وضوءه ما لم يستيقن أنه بول أو مذي إذا كان قد استنجى ، فقد ذكر في بعض »النوادر« أن المستنجي إذا دخل الماء في ذكره ثم خرج لا ينقض وضوءه ، فيحتمل أن يكون هذا الخارج من ماء الاستنجاء ، قال شيخ الإسلام رحمه الله : الحيلة في قطع هذه الوسوسة أن ينضح فرجه بالماء ، فإذا أراه الشيطان ذلك أحاله على الماء اھ (۱/ ۷۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیراحمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39715کی تصدیق کریں
0     928
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات