پیشاب (استنجاء ) کرنے کے بعد کیا پیشاب کی نالی میں جو پانی ہوتا ہے ، کیا اسے خشک کرنا ضروری ہے؟ ایک بندے نے وہ پانی خشک کرلیا اور وضو کر لیا ، لیکن تھوڑی دیر بعد پیشاب کی نالی میں پھر تری آ گئی ، کیا اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا ؟ اور نماز کا کیا حکم ہے ؟ شرعی حکم کیا ہے؟
اگر کسی کو مثانے وغیرہ کی کمزوری کی وجہ سے قطروں کی بیماری ہو ، تو اسے چاہیۓ کہ پیشاب کرنےکے بعد پیشاب کی نالی کو بھی خشک کرلیا کرے ، تاکہ بعد میں وہ شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہو ، تاہم اگر اس کے بعد بھی پیشاب کی نالی میں پیشاب کا قطرہ آجائے ،عضو سے باہر نہ آئے تو ایسی صورت میں وضو نہیں ٹوٹےگا۔
فی المحیط البرهانی : قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني رحمه الله : و تأويل هذا في الذي يرى البلل على طرف ذكره و قد استنجى ، فيحتمل أن يكون ذلك من بلل الغسل، فأما إذا علم الرجل أنه خرج من داخل الإحليل فعليه أن يتوضأ . و من أصحابنا من قال : و إن علم أنه خرج من ذكره لا ينتقض وضوءه ما لم يستيقن أنه بول أو مذي إذا كان قد استنجى ، فقد ذكر في بعض »النوادر« أن المستنجي إذا دخل الماء في ذكره ثم خرج لا ينقض وضوءه ، فيحتمل أن يكون هذا الخارج من ماء الاستنجاء ، قال شيخ الإسلام رحمه الله : الحيلة في قطع هذه الوسوسة أن ينضح فرجه بالماء ، فإذا أراه الشيطان ذلك أحاله على الماء اھ (۱/ ۷۶)۔