مولانا صاحب میری شادی کو ایک سال ہواتھا، میری بیوی کا بیٹے کی پیدائش کے دو دن بعد انتقال ہوگیاتھا ،ابھی بیٹے کی عمردوماہ ہے، میں نے اپنی مرضی سے اپنے بیٹے کونانی کے پاس رکھا ہوا ہے، پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا میں جب چاہوں بچے کو اپنی تحویل میں لےسکتاہوں ؟یا اس وقت بچے کا شر عی وارث کون ہے ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ میری وفات کے بعد میرے بیٹے کا شرعی وارث کون ہوگا ؟ابھی میری والدہ محترمہ حیات ہیں اور والدصاحب کا انتقال ہوگیا اور میری ساس اور سسر دونوں حیات ہیں؟
تیسرا اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے بچے کی کفالت اور پرورش کے بارے میں وصیت کر سکتا ہوں یا نہیں؟ اور اگر کر سکتاہوں تو کس کس رشتے کے حوالے کر سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ بچے کی ماں کی وفات کے بعد بچے کے سات سال عمر ہونے تک اسکی پرورش کا حق اسکی نانی کو حاصل ہوتا ہے , نانی کے نہ ہونے یا اس کے اپنے حق سے دستبردار ہونے کی صورت یہ حق دادی پھر خالہ پھوپھی وغیرہ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے -
لہذ امذکور بچے کا ولی وارث تو سائل ہی ہے لیکن چونکہ بچے کی نانی حیات ہے اس لئے اگر وہ بچے کی پرورش کرنا چاہتی ہو تو سائل کیلئے مذکور مدت (سات سال) تک بچے کو اپنی تحویل میں لینا درست نہیں ، البتہ اس مدت کے بعد اگر سائل بچے کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے اور دوران ِکفالت بچے کی پرورش پر آنے والے تمام اخراجات سائل کے ذمہ لازم ہونگے، جبکہ سائل اگر متعلقہ لوگوں کے حق میں وصیت کرے جنہیں شرعاً کفالت و پرورش کا حق حاصل ہے تو وہ وصیت معتبر ہو گی ور نہ شریعت کے خلاف ہونے کیوجہ سےاسکے علاوہ وصیت کا کوئی اعتبار نہ ہو گا ۔
كما في الدر المختار : (تثبت للام ) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.(3/556)
وفیه ایضا: (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر(3/563)