السلام علیکم!
میں ایک بینک میں آئی ٹی کے شعبے میں کام کرتا ہوں ،جو کہ ایک غیر شرعی بینک ہے ؟ مجھے ایک گاڑی کی ضرورت ہے، مگر میرے پاس اتنی رقم موجود نہیں، جس سے میں ایک مناسب گاڑی نقد خرید سکوں ،اور نہ ہی میرے پاس قسطوں پر گاڑی لینے کے لئے ڈاؤن پیمنٹ کی مناسب رقم موجود ہے؟ میرا بینک ہر ملازم کو قسطوں پر گاڑی کی سہولت دیتا ہے، جس کی شرائط یہ ہیں : بینک گاڑی کی قیمت کے برابر کا پے آرڈر گاڑی فروخت کرنے والے کے نام بناتا ہے ، مگر گاڑی بینک خرید کر ملازم کو نہیں بیچتا، بلکہ قرض کی صورت میں پیمنٹ کرتا ہے ، گاڑی کی اصل قیمت میں منافع (چار فیصد) جمع کر کے قسطوں کا حساب کرتا ہے، گاڑی کی قسط اور معیار دونوں طے ہو جاتی ہیں اور ہر مہینے کی تنخواہ سے قسط کی کٹوتی ہو جاتی ہے ، اس طرح کار لینے میں میری ڈاؤن پیمنٹ کی مشکل آسان ہو جائیگی جو کہ بینک ادا کریگا؟ تو کیا ایسی صورت میں میرا بینک سے گاڑی لینا مجبوراً جائز ہو گا ؟
مذکور بینک کا سائل کو گاڑی کی قیمت کے برابر قرض دیکر واپسی میں چار فیصد کے حساب سے اس پر اضافی رقم وصول کرنا بلا شبہ سودی معاملہ ہے۔ اس لئے سائل کو اپنے اس بینک کے توسط سے گاڑی لینا جائز نہیں، سائل کو چاہیئے کہ کسی اسلامی بینک کے ذریعے گاڑی یا پھر کسی سے قرض لیکر نقد میں گاڑی خریدے ،اور بعد میں قسطوں کے ذریعہ اس شخص کو اس کی رقم واپس کر دے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) ۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0