السلام علیکم!
میرے شوہر نے مجھے عید والے دن غصے کی حالت میں شراب کے نشہ میں طلاق دی ،اور ایک بار کہا، پھر میرے اور ان کے والدین نے پیپر پر زبر دستی دستخط کرنے کا کہا ،میرے شوہر کہتے ہیں ،میں نہیں مانتا طلاق کو کیونکہ مجھے دھمکا کر دستخط کرایا گیا،میں تو نہیں دے رہا تھا طلاق ،اس کے بعد دنیا کی نظر میں طلاق ہو گئی لیکن شوہر اور میر ارابطہ رہا ،اب سوال یہ ہے کہ بعد میں میں نے پڑھا کہ غلطی سے نشہ میں طلاق نہیں مانی جائے گی ،کیونکہ آپ ہوش میں نہیں ہوتے اور زبردستی پیپر پر دستخط کروائے بھی، تو بھی نہیں ہوتی ،تو اب میں کیا کروں ہم ساتھ نہیں رہتے کیونکہ سب کی نظروں میں طلاق ہو گئی ہے اس بات کو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن ہم رابطہ میں ہیں ،مزید اس بات کی بھی میں وضاحت کرتی چلوں پہلے دو طلاقی بھی ایسے نشہ میں مجھے دی گئیں ۔
جوابِ تنقیح : (1) میرے شوہر نے نشہ کی حالت میں ایک طلاق دی جس وقت میں حاملہ تھی الفاظ طلاق یہ تھے میں نے تمہیں فارغ کیا اس کے بعد ہم ایک ساتھ رہے پھر چار مہینے بعد دوبارہ شراب کے نشہ میں یہ کہا میں نے تمہیں فارغ کیا اس کے بعد عید والے دن نشہ کی حالت میں تھے ،تو میں نے انہیں نماز کیلئے جگایا ہماری بات بڑھ گئی تو مجھ سے کہنے لگے میں تمہارے لائق نہیں ہوں میں تمہیں چھوڑتا ہوں اس کے بعد میرے چاچو جو کہ پولیس میں ہے انہوں نے ان کو دھمکایا اور حوالات میں بند کرنے کی دھمکی دی اور ان سے زبر دستی طلاق نامہ پر دستخط لئے اس کے بعد سے ہم جدا ہیں ، اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
(2) سائلہ نے بتایا کہ جب دوسری مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے اس وقت وضع حمل ہو چکا تھا۔
نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے نشہ کی حالت میں پہلی مرتبہ یہ کہا کہ " میں نے تمہیں فارغ کیا " تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا تھا جس کے بعد سائلہ اور اس کے شوہر کا ,تجدیدِ نکاح کیے بغیر ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہ تھا اس لئے سائلہ اور اس کے شوہر نے اس کے بعد جتنا عرصہ ساتھ گزارا ہے، حرام کاری میں مبتلا رہے ہیں ، جس کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، لہذا ان پر اپنے اس عمل پر کثرت سے توبہ واستغفا ر لازم ہے، لیکن وضعِ حمل کے ساتھ عدت گزر جانے کے بعد جو طلاقیں دی ہیں، وہ محل نہ ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی ہیں، لہذا اب اگر دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کیلئے نئے حق مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے دوبارہ عقدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہو گا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
وفي الدر المختار: باب الكنایات (كنایته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنایات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال) وفي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنایات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوية يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) الخ
وفى الشامية تحت (قوله ما لم يوضع له إلخ) ومنها عديت عنها فیقع به البائن بالنية كما أفتى به الشيخ إسماعيل الحائك، قلت: ومنها أنت خالصة المستعمل في زماننا فإنه في معنى خلية وبرية تأمل، وفي البزازية: قال لآخر إن كنت تضربني لأجل فلانة التي تزوجتها فإني تركتها فخذها ونوى الطلاق تقع واحدة بائنة (ج 3 ص 296).
وفى الهندية ولا يلحق البائن البائن بان قال لها انت بائن ثم قال لها انت بائن لا يقع الاطلقة واحدة بائنة لا يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فلاحاجة الى جعله انشاء اھ (ج1ص377)