السلام علیکم! سر میں کافی دنوں سے ایک مسئلہ کی وجہ سے پریشان ہوں، مہربانی میری مدد کریں میں کوئی پچھلے 5/6 سال سے مشت زنی کرتا رہا ہوں لیکن اب میں نے الحمد للہ اللہ پاک کے فضل سے پکی توبہ کر لی ہے اور پانچ وقت نماز بھی اداء کرتا ہوں، لیکن ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ مجھے ہر وقت سوتے جاگتے چلتے پھرتے ، بیت الخلاء جانے کے بعد یا پہلے یا جب رات کو بیڈ پر لیٹتا ہوں تو کروٹ بدلتے یعنی کہ ہر وقت مجھے قطرے آتے رہتے ہیں یہ مجھے کوئی بیماری لگتی ہے تو مجھے ہر وقت شک لگا رہتا ہے کہ کہیں میری نماز قبول ہو رہی ہے کہ نہیں مجھے کسی نے بتایا تھا کہ یہ مذی ہے اور اس پر غسل واجب نہیں ہوتا لیکن وضو کرنا پڑتا ہے اب میری حالت ایسی ہے کہ میں ہر وقت وضو یا اپنے کپڑے نہیں دھو سکتا ، مہربانی مجھے سمجھائیں کہ میں کیا کروں ؟ جزاک اللہ
سائل کو قطروں کی شکایت اگر اس قدر ہو کہ کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اُسے اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز اداء کر سکے تو اس صورت میں وہ شرعا معذور کے حکم میں داخل ہو جائے گا۔ تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلا ادائیگی ظہر کے لیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اُسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض ظہر اداء کر لے اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے لیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نماز عصر با جماعت اداء کرے اس دوران اگر کچھ قطرے گر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کر لیا کرے۔ اس پورے وقت میں اگراس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس دوران اگر پور ا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتب بھی لاحق نہ ہو تو شرعا وہ معذور نہیں رہے گا لہذا اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
كما في الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (إلى قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) اھ (1/ 305)