میں نے آج سے نو مہینے پہلے اپنی بیوی کو میسج کے ذریعے طلاق دی تھی، میسیج میں یہ الفاظ لکھے تھے، میں اپنے ہوش و حواس میں ہوں، میں تم کو طلاق دیتا ہوں، میں تم کو طلاق دیتاہوں، میں تم کو طلاق ہوں " اور تم سے شدید نفرت کرتا ہوں"۔ لیکن اس میسج سے دو دن پہلے میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا تھا تم مجھ پے حرام ہو " اب آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں ، کہ ہمارے درمیان رجوع کی گنجائش ہے ؟ یا ہماری تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ؟
سائل کا اپنی بیوی کو میسج کرنے سے پہلے" تم مجھ پر حرام ہو" کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہو چکی تھی، جس کے بعد میسج کے ذریعے "میں تم کو طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہنے سے مزید دو طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور عدت گزارنے کے بعد عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الشامية (قوله (حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع، أريد بها هنا الوصف ومعناه الممنوع فيحمل ما سبق، وسيأتي وقوع البائن به بلانية في زماننا للتعارف. لا فرق في ذلك بين محرمة وحرمتك، سواء قال علي أو لا ( ج ۳ ص ٢٩٨)
وفي الدر المختار :الصريح يلحق الصريح و يلحق (البائن) بشرط العدة والبائن يلحق الصريح ) الصريح مالا يحتاج الى النية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح (۳) ص ۳۰۶) ۔
وفي بدائع الصنائع :وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك, وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل: (فإن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ( ج ۳ ص ۲۳۳) والله اعلم بالصواب