فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے تین مہینے پہلے اپنی بیوی کے بھائیوں سے کال کر کے کہا کہ " میں تمہاری بہن کو طلاق دیتا ہوں " تین بھائی ہیں اسکے ، تینوں کو یہی کہا، دوسرے دن جب بیوی آئی تو اسے کہہ دیا کہ " میں آپکو طلاق دیتا ہوں بیوی کو ایک بار یہ الفاظ بولے ہیں، اب معلوم کرنا ہے ، کہ آیا تین طلاقیں واقع ہو ئیں یا ایک طلاق ؟۔
نوٹ سائل سے فون پر تنقیح کرنے سے معلوم ہوا کہ سائل نے اپنے تینوں سالوں کو الگ الگ کال کر کے مذکور الفاظ دہرائےہیں۔
سائل نے چونکہ اپنے تینوں سالوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ کال کر کے یہ الفاظ " میں تمہاری بہن کو طلاق دیتا ہوں “ بولے ہیں جس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام مدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما في بحر الرائق: وليس منه أطلقك بصيغة المضارع الا اذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القديراھ (ج 3 ص (439).
وفي الشامية: وكذا المضارع اذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر اھ(3/248) واللہ اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0