کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان اکثر لڑائی یا تلخی رہنے لگی ہے ، جب کبھی میں بار بار کی لڑائی سے تنگ آجاتا ہوں، تو اپنی بیوی کو ڈرانے کے لئے اس کو دھمکاتا ہوں کہ "تم کو تمہارے گھر چھوڑ دونگا یا تم کو طلاق دید و نگا اگر تم نہیں سدھری"، ایک دن پھر اس نے مجھ سے لڑائی کی تو میں نے اس سے کہا کہ" طلاق دید و نگاتم باز آجاؤ"، تو اس نے کہا کہ ہاں آج دیدیں، میں نے کہا آپ یہ بات مجھے لکھ کر دو، اس نے ایک کاغذ پر لکھدیا کہ آپ مجھے روز روز طلاق کی دھمکی دیتے ہیں مجھے طلاق دیدیں ، اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا طلاق ہو گئی ؟ اب اس دن کے بعد میری بیوی کہتی ہے کہ میں نے غلطی سے لکھد یا ، مگر میر ا دل مطمئن نہیں ہے اس بات پر ، کیا طلاق ہو گئی شریعت کی نظر میں یا نہیں ؟ مکر روضاحت : میں نے زبانی یا تحریری کسی بھی طریقہ سے لفظ طلاق استعمال نہیں کیا تھا، میری بیوی کے لکھنے کے بعد میں خاموش ہو گیا ، اور وہ کاغذ اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا، اورکوئی جواب نہیں دیا ، اب وہ بہت شرمندہ ہے، آپ ہماری راہنمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو، تو سوال میں درج میاں بیوی کے الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،سائل اور اس کی بیوی حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، مگر بلا وجہ بات بات پر طلاق کی دھمکی دینا اور طلاق کے الفاظ دھر انا کمزوری اور بےمروتی والا عمل ہے، جس سے احتراز چاہئے۔
كما فى الدر المختار: وهل التهديد بالطلاق كالطلاق كالعرض على البيع كالبيع؟ لم أره اھ(3 /669)۔
وفی ردالمحتار: (قوله كالعرض على البيع كالبيع)(الی قوله) وحينئذ فوجه الشبه أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا اھ(3/ 229)۔