سر میں ایک گھر لے رہا ہوں، جو کہ تقریباً چالیس لاکھ کا ہے، دس لاکھ میں کسی سے لے رہا ہوں ، جس سے لینے ہے اس کو گھر کا جتنا کرا یہ بنتا ہے اس کا ایک چوتھائی (۴/۱) اس کو دینا ہے ، اور پھر جتنی دیر تک اس کے پورے پیسے واپس نہیں دیتا کرایہ کا ایک چوتھائی (۴/۱) اس کو دیتا رہوں گا، جبکہ گھر میں، میں خود رہوں گا، کیا یہ سود ہوگا ؟
سائل جس شخص سے مکان کی خریداری کے لیے رقم لے رہا ہے، اگر وہ شخص یہ رقم بطور قرض دے کر، رقم کی پوری واپسی تک گھر کے کرایہ میں سے ایک چوتھائی (۴/۱) کرایہ وصول کرنے کی اپنے لئے شرط رکھے تو یہ قرض پر نفع حاصل کرنے کی وجہ سے صراحۃً سود ہے ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر سائل مذکور شخص سے مل کر مشترکہ طور پر یہ مکان خریدے جس سے مذکور مکان سائل اور اس دوسرے شخص کے درمیان ایک چوتھائی (۴/۱) کے حساب سے مشترک ہو جائے گا، پھر اگر وہ دوسرا شخص اپنے حصہ کا کرایہ وصول کرے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا، اس کے بعد یہ بھی جائز ہے کہ سائل مذکور شخص کو اس کے حصے کی رقم دے کر پورے گھر کا مالک بن جائے ۔
ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر نفعا» اھ (6/ 83) والله اعلم بالصواب
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0