کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مذکورشخص کے بارے میں کہ زید کو شادی کے بعد سے جب بیوی سے بات کرتا ہے تو دل میں یہ خیال آتا ہیکہ کیو نکہ میں نے طلاق دیدی ہے مثلا ایک بار ایسے بات کر رہا تھا، رات میں پوچھا کہ سب گھر والے کیا کر رہے ہیں، بیوی نے کہا کہ سب سو گئے ہیں، تو زید نے کہا کہ آپ بھی آرام فرمالیں جیسے ہی یہ جملہ کہا آپ بھی آرام فرمالیں مکمل کیا ،فورا خیال آیا کیو نکہ میں نے طلاق دیدی ہے ،ایسا اکثر ہوتا ہیکہ جب کوئی بات مکمل کرتا ہے، تو خیال آتاہے کہ کیونکہ میں طلاق دیدی ہے ،ایسے ہی ایک بار سورہ بقرہ تلاوت کر رہاتھا تو جو آیت ہے ”الطلاق مرتان“ والی تو اس سے پہلے ہی آیت پر تلاوت بند کر دیا ،طلاق کے ڈر سے کہ کہیں طلاق نہ پڑ جائے ،کیونکہ وہ جانتا ہےکہ لفظ طلاق بولنے سے واقع ہو جاتی ہیں ،لیکن پھر بعد میں اسنے وہ آیت ’’الطلاق مرتان ‘‘سے تلاوت شروع کی اور دل میں یہ خیال تھا کہ جب اسکو طلاق دینے کا ارادہ کرونگا ،تو واقع ہو گی صرف تلاوت سے نہیں ،اب بعد میں یہ وسوسہ کہ تو نے طلاق کی نیت سے تلاوت کیا ہے جسکی وجہ سے زید پریشان ہے، حالانکہ الطلاق مرتان تلاوت کرتے وقت ڈر بھی رہا تھا تواب کیا حکم ہے ؟
محض طلاق کا خیال آنے سے یا قرآن کریم یا کسی دوسری کتاب میں طلاق کا لفظ پڑھنے سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لئے زید کو چاہئے کہ بلاوجہ وساوس اور وہم میں پڑ کر اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا نہ کرے۔
کمافی ردالمحتار :(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أوكناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كماسيأتي اھ (3/ 230)
وفیه ایضاً (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب (قوله وصبي لا يعقل) قدر عقله في فتاوى قارئ الهداية بأن يبلغ سبع سنين نهر وسيأتي آخر الباب اھ(4/ 230)