میرا ایک سوال ہے جب بھی کوئی انسان مجھ سے کسی دوسرے کی طلاق کا ذکر کرتا ہے ، یا کسی اور کے ساتھ ایسی باتیں کر رہا ہو اور میں بھی آکران باتوں میں شریک ہو جاؤں تو باتیں ختم ہونے کے بعد مجھے ایسے وسو سے ہونے لگتے ہیں کہ کہیں ان ساری باتوں کے درمیان میرے منہ سے ایسے لفظ نہ نکل گئے ہوں جن کی وجہ سے میرے اپنے رشتے میں کوئی فرق آجائے تو یہ پوچھنا تھا کہ انسان کو خود کتنا فیصد یاد ہو اور یقین ہو اپنی بات کا کہ اس نےخود ایسا بولا ہے یا نہیں بولا اپنے بارے میں ؟
واضح ہو کہ جب تک زبان سے طلاق کے الفاظ نکلنے کا یقین نہ ہو تو محض طلاق کے وہم سے شرعا کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا سائل کو بے وجہ وہم میں نہیں پڑنا چاہئے۔
كما في الدر المختار:علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا، كما لو شك أطلق أم لا اھ ( ج ۳ ص ۲۸۳)