مجھ سے غلطی ہوئی لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ " جاؤ تمہیں طلاق دیتا ہوں اپنی امی کے گھر " یہ ہی صورت حال تین بار ہوئی، تواس سے کیا طلاق ہو جاتی ہے؟ میری بیوی مجھے کہہ رہی ہے طلاق ہو گئی ہے، میں عدت میں بیٹھی ہوں میں کیا کروں ؟ غصہ میں، میں نے کہہ دیا۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعا ًطلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو دوران لڑائی سوال میں مذکور الفاظ " جاؤ تمہیں طلاق دیتا ہوں اپنی امی کے گھر " تین مرتبہ کہہ دئے ہیں تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعداپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال الله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره (سورة البقرة)
وفي الصحيح للبخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك» ( ج ۲ ص (۷۹۲)
وفی الشامیة: تحت (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى،(الی قوله ) وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف۔ {فماذا بعد الحق إلا الضلال}(3/232)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها اھ (1/473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0