کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مثال کے طور پر ایک آدمی آتا ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے پیسہ چاہیے 50000، ہم اسے یہ سہولت دیتےہیں کہ ہم آپ کو 50000 کا خالص سونا دے دیتے ہیں جو قسطوں پر 75000 ہزار کا پڑے گا اور 7500 ماہانہ قسط ہو گی اور گاہک سونا مارکیٹ میں جاکر 49000 کا بیچ دیتا ہے۔
سائل اگر کسی ضرورت مند شخص کو قرض روپے دینے کے بجائے اسے نقد قیمت کے بنسبت سونا زیادہ قیمت پر قسطوں میں فروخت کر دے ، اور مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ، اور ہر قسط کی مالیت بھی طے کر لی جائے ، اور کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی اضافی جرمانہ بھی مشروط نہ ہو ، اور پھر سونے پر قبضہ کرنے کے بعد وہ شخص اس سونے کو مارکیٹ میں سائل کے علاوہ کسی تیسرے شخص کو نقد میں فروخت کر کے رقم حاصل کرے اور اس تیسر سے شخص کے سا تھ سائل کا کاروباری اشتراک نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس طرح کا لین دین کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
كما في فقه البيوع: القسم الثاني من العينة ما يسميه الحنابلة التورق ، وذكرة الحنفية باصطلاح العينة وهو أن يشتري المرء نسيئة بزيادة في ثمن المثل ، ثم بيعها نقداً الى غير البائع بأقل مما اشتراه به؛ ليحصل بذلك على النقد (الی قوله) أما الحنفية فقد ذكروا التورق باسم العينة ، ثم منهم من ذهب الى كراهته مثل الامام محمد رحمه الله (الی قوله) وان ابن الهمام وافق بين قولي الكراهة والجواز فحمل الجواز على الصورة الأولى وهي التورق وحمل الكراهة على الصورة الثانية وهي العينة عند جمهور الفقهاء (الی قوله) وما ذكره ابن الهمام وجيه جداً ، ولذلك اختاره کثیر من الحنفیة و أفتوا به (إلی قوله) ولکن جواز التورق مشروط بن لا تکون هناك ملابسات أخری تفسد البیع اھ (۱/ ۵۵۵)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0