وضو

عورت کے پستان سے دودھ نکل آنے سے وضوء ٹوٹے گا؟

فتوی نمبر :
3598
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

عورت کے پستان سے دودھ نکل آنے سے وضوء ٹوٹے گا؟

مفتی صاحب! آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ دوران نماز یا کسی اور وقت عورت کے پستان سے دودھ نکل آئے تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائیگا ؟
۲۔ ایک آدمی کے پاس سونے کا زیور بھی ہے اور اس کی بیوی کا جہیز کا سامان بھی ہے، کچھ زیور اس کی بیوی استعمال بھی کرتی ہے تو زکوٰۃ کتنی اور کس چیز پر ادا کریگا؟ کیا زیورات کے علاوہ فالتو سامان پر بھی زکوٰۃ ہوگی؟ کیا اگر اس کا کوئی پلاٹ بھی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔ خود بخود دودھ نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی نماز پر کوئی اثر پڑتا ہے، البتہ دوران نماز اگر بچہ چسکی لگائے اور اس سے دودھ بھی نکل آئے تو اس صورت میں نماز فاسد ہو جائیگی،(البتۃ پھر بھی نہیں ٹوٹے گا)
۔ جہیز کے سامان اور فالتو اشیاء پر زکوٰۃ لازم نہیں، جبکہ مذکور پلاٹ اگر بغرض تجارت لیا ہو اور اب بھی یہی نیت ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی ، ورنہ نہیں، اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی ملکیت میں اگر سونا ساڑھے سات تولہ کے بقدر یا نقدی کے ساتھ مل کر وہ ساڑھے باون (۵۲.۵۰) تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر بنتی ہو تو صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و في الدر المختار : فإن من دفع أو جذبته الدابة خطوات أو وضع عليها أو أخرج من مكان الصلاة أو مص ثديها ثلاثا أو مرة ونزل لبنها أو مسها بشهوة أو قبلها بدونها فسدت اھ (1/ 628)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في المحيط: إن خرج اللبن فسدت لأنه يكون إرضاعا وإلا فلا اھ (1/ 628)
ففي التنویر الابصار: واللازم في مضروب كل ومحموله ولو تبرا أو حليا مطلقا أو عرض تجارة قيمته نصابا من ذهب أو ورق مقوما بأحدهما ربع عشر اھ (۲/ ۲۹۸)
و في الدر المختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) اھ (2/ 295) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3598کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات