کیا سعودیہ کے تمام علماء ِحرمین کا مسلک عام جرابوں پر مسح کرنا ہے؟اور کیا نماز ہوگی؟
اونی ، سوتی موزے اور جرابیں اگر اس قدر موٹی ہوں کہ انہیں پہن کر جوتے بغیر تین میل پیدل چلیں ، تو تب بھی نہ پھٹیں اور وہ پنڈلی پر بغیر کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکے اور اس میں پا نی نہ چھنتا ہو ، تو یہ چمڑے کے موزوں کے حکم میں ہوں گے اور ان پر مسح کرنا جائز ہوگا اور نماز بھی درست ہوگی ، تاہم ظاہر ہے کہ آج کل مروجہ عام جرابوں میں مندرجہ بالا اوصاف مفقود ہوتی ہیں ، لہذا ان پر مسح کرنا کسی امام کے نزدیک بھی شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
كما فی الدر المختار : (أو جوربيه) و لو من غزل أو شعر (الثخينين) بحيث يمشي فرسخا و يثبت على الساق و لا يرى ما تحته و لا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الغرض.
و فی بدائع الصنائع : فان کانا رقیقین یشفان الماء لا یجوز المسح علیھا بالاجماع اھ (1/10)۔