وضو

اگر بیماری کی وجہ سے پیشاب کی تھیلی لگی ہوئی ہو تو وضو اور نماز کیسے پڑھیں؟

فتوی نمبر :
35769
| تاریخ :
2018-10-28
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

اگر بیماری کی وجہ سے پیشاب کی تھیلی لگی ہوئی ہو تو وضو اور نماز کیسے پڑھیں؟

گزارش یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی دو سال سے کافی بیمار ہیں ان کو پیشاب کا پتہ نہیں چلتا، پیشاب کے واسطہ تھیلی نلکی لگائی ہوئی ہے، اس میں نماز کس صورت میں پڑھی جائے گی؟ یا اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے یا جو طریقہ ہو وہ بتائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز تو بیماری کی صورت میں بھی معاف نہیں ہے بلکہ جب تک ہوش و حواس برقرار ہوں نماز پڑھنا لازم اور ضروری ہے تاہم سائل نے اپنے بڑے بھائی کی بیماری کی جو صورت بیان کی ہے اگر یہ بیماری اسے اس قدر تسلسل کے ساتھ لاحق ہو کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا، تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگی ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نماز ادا کرے، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ نماز سے پہلے تھیلی خالی کرنے کے بعد وضو کرکے نمازِ عصر ادا کرے اس دوران اگر پیشاب نکل بھی جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اسی طرح مغرب اور عشا میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقت ِنماز ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (وصاحب عذر من به سلسل) بول لا یمكنه إمساكه(أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) (الی قوله) (ثم یصلی) به (فیه فرضًا ونفلًا) فدخل الواجب بالأولیٰ (فاذا خرج الوقت بطل) اه (ج ۱، ص۳۰۵)
وفیه ایضًا: (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما فی ﴿لدلوك الشمس﴾ [الإسراء: ۷۸] (ثم یصلی) به (فیه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولی (فإذا خرج الوقت بطل) أی: ظهر حدثه السابق، حتی لو توضأ علی الانقطاع ودام إلی خروجه لم یبطل بالخروج ما لم یطرأ حدث آخر أو یسیل كمسألة مسح خفه، وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعید أو ضحی لم یبطل إلا بخروج وقت الظهر. (وإن سال علی ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا یغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أی: الصلاة (وإلا) یتنجس قبل فراغه (فلا) یجوز ترك غسله، هو المختار للفتوی. (ج۱، ص۳۰۵ / ۳۰۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فروخ عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35769کی تصدیق کریں
2     2049
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات