مسئلہ بابت قرض حسنہ سکیم!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
مفتی صاحب ملک بھر میں کئی نجی ادارے قرض حسنہ سکیم کے تحت کام کر رہے ہیں جس میں ان کے بقول وہ صارف سے وہی رقم واپس وصول کرتے ہیں جو وہ صارف کو کسی بھی صورت میں ( کیش، نقد یار کشہ وغیرہ خرید کر )دیتے ہیں۔ اس قرضے کے حصول میں وہ صارف سے کچھ رقم بطور پروسیسنگ فیس یا سروس چارجز کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر قسط لیٹ ہو جائے تو قسط کے ساتھ کچھ جرمانہ بھی وصول کیا جاتا ہے۔ جب کہ بعض ادارے قرض کی قسط کے ساتھ کچھ رقم بطور عطیہ یاہد یہ بھی وصول کرتے ہیں۔
۱۔ آیا کہ ان اداروں کی مذکورہ فیس یا سروس چار جز وصول کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
۲۔ اس طرح سروس چار جز وصول کرنے سے معاملہ قرض سود کے ضمن میں تو نہیں چلا جاتا؟
۳۔ قسط کے ساتھ جرمانہ وصول کرنے کا کیا حکم ہو گا؟
۴۔ صارف سے عطیہ یا ہدیہ وصول کر ناشر عا کیسا ہو گا؟
ان سوالات کا جواب مدلل عنایت فرمائیں اللہ رب العزت آپ تمام احباب کو اجر عظیم عطا فرمائیں (آمین) ۔
جاننا چاہئے کہ قرض پر کسی قسم کے نفع یا اجرت کا مطالبہ کرنا شرعا نا جائز اور حرام ہے ، البتہ قرض کے اجراء میں واقعی دفتری اخراجات و ادارتی مصارف آتے ہوں، تو اس پر دو شرائط کے ساتھ اجرت وصول کرنے کی گنجائش ہے۔
۱:اجرت اس جیسے کاموں پر آنے والی اجرت مثل کے برابر ہو۔
۲: اجرت کی وصولی کو محض قرض پر منافع لینے کا حیلہ و بہانہ نہ بنا یا جائے بلکہ واقعۃً دفتری اخراجات وادارتی عملہ کے قرض فراہمی سے متعلق امور کی انجام دہی کا عوض ہو۔
اس کے بعد بالترتیب سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں :
۱/۲:مذکور ادارے سروس چار چز کے نام سے جو رقم وصول کرتے ہیں اگر یہ رقم واقعۃً دفتری اخراجات کے عوض اور اجرت مثل کے برابر ہوں، تو اس کی وصولی کی گنجائش ہے، اور یہ سود بھی نہیں ہے۔
۳/ ۴:مذکور ادارے کا صارف (مدیون) سے کسی قسط کی تاخیر پر جرمانہ وصول کرنا یا اصل قسط کے ساتھ عطیہ یا ہدیہ کے نام سے رقم لینا جائز نہیں۔
ففى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى اھ (6/ 92)
وفي الدرالمختار وحاشية ابن عابدين(ردالمحتار):(قوله قدر مايجوز لغيره) قال في جامع الفصولين: للقاضي أن يأخذ ما يجوز لغيره، وما قيل في كل ألف خمسة دراهم لا نقول به ولا يليق ذلك بالفقه، وأي مشقة للكاتب في كثرة الثمن؟ وإنما أجر مثله بقدر مشقته أو بقدر عمله في صنعته أيضا كحكاك وثقاب يستأجر بأجر كثير في مشقة قليلة اهـ. قال بعض الفضلاء: أفهم ذلك جواز أخذ الأجرة الزائدة وإن كان العمل مشقته قليلة ونظرهم لمنفعة المكتوب له اهـ. قلت: ولا يخرج ذلك عن أجرة مثله، فإن من تفرغ لهذا العمل كثقاب اللآلئ مثلا لا يأخذ الأجر على قدر مشقته فإنه لا يقوم بمؤنته، ولو ألزمناه ذلك لزم ضياع هذه الصنعة فكان ذلك أجر مثله اھ (6/ 92) والله اعلم بالصواب
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0