ایک شیعہ عورت مرگئی اور کسی نے اسے زندگی کے ایّام میں صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین پر سب و شتم کرتے ہوئے نہیں سنا ، کیا ایسی عورت کا جنازہ سنی امام کو پڑھانا جائز ہے ؟
مذکورہ عورت اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کی قائل نہیں تھی اور نہ ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کی تصدیق اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی تردید کرنے والی تھی اور نہ ہی اس کے علاوہ اور کوئی قرآن کریم کے صریح نصوص کے خلاف کفریہ عقیدہ رکھتی تھی اور کبھی زندگی میں ایسے کفریہ عقائد کا اظہار بھی نہیں کیا ہو اور نہ ہی فرقۂ اثناعشریہ کی طرف منسوب ہو , تو سنی عالم کے لئے اس کی نماز جنازہ پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، ورنہ ایسی عورت کی نما زجنازہ پڑھانے سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار : (و هي فرض على كل مسلم مات خلا) أربعة (بغاة و قطاع طريق) فلا يغسلوا و لا يصلى عليهم اھ (2/ 210)-
و في بدائع الصنائع : و أما بيان من يصلى عليه فكل مسلم مات بعد الولادة يصلى عليه صغيرا كان ، أو كبيرا ، ذكرا كان ، أو أنثى ، حرا كان ، أو عبدا إلا البغاة و قطاع الطريق ، و من بمثل حالهم لقول النبي: - صلى الله عليه و سلم - «صلوا على كل بر و فاجر» اھ (1/ 311)-
و في حاشية ابن عابدين : نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق ، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (4/ 237)-
في شرح العقائد : سبّ الصحابة و الطعن فيهم إن كان لا يخالف الأربعة القطعية فكفر لقذف عائشة رضى اللہ عنها و إلا فبدعة و فسق اھ (ص: ۷۳)-