کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں اگر کسی شخص کی کمائی حرام ہو تو اس سے کاروبار کے لیے قرض لیا جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ ہو۔
ایسے شخص جس کی آمدنی حرام ہونے کا یقینی علم ہو، اس سے قرضہ لینا خواہ کاروبار کے لیے ہو یا کسی اور غرض کے لیے جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر نقلا عن الأشباہ: ’’الحرمۃ تنتقل مع العلم بھا إلا للوارث‘‘ (۶/۳۸۶)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0